ٹیلی پیتھی کا تعارف
ایساعلم جس کو حاصل کرنے کے بعد کسی بھی شخص سے کبھی بھی اور کہیں سے بھی رابطہ کیا جا سکے اور اپنی مرضی کے مطابق کام کرایا جا سکے ٹیلی پیتھی کہلاتا ہے۔ایسا علم ہے جوعمل کے دائرے میں ہو تو ناممکن کوممکن کر دیتا ہے۔دماغی قوت کو اتنی بلندی ملتی ہےکہ جادو کا گمان ہوتا ہے۔دیگر علوم کی طرح اس کو بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔اس علم سے آپ دوسروں کے دلوں میں پوشیدہ رازوں سے واقف ہوسکتے ہیں۔یہ ذہن کا ایسا برقی نظام ہےکہ جس کی ان دیکھی لہروں سےآپ اپنےمقصدکی تکمیل کرسکتے ہیں۔اور یہ تب ممکن ہے جب آپ کی اس پر عملی گرفت ہو۔
اس بلاگ میں ٹیلی پیتھی سے متعلق تمام امور پر معلومات دی جائیں گی۔کوئی معلومات رہ جائے تو آپ پوچھ سکتے ہیں۔
شمع بینی۔
ٹیلی پیتھی کی عملی مشقوں میں شمع بینی سب سے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔کھانا کھانے کے دو گھنٹے بعدشمع بینی شروع کریں۔شمع بینیکے لیےایک اچھی موم بتی لےلیں۔رات کو اپنے تمام کاموں سے فارغ ہوکر ایک ایسے کمرے کا انتحاب کریں جہاں شور نا ہو۔سب سے پہلے سانس کی مشق کریں۔اُس کے بعد شمع کے سامنے دو فٹ کے فاصلے پر بیٹھ جائیں اور یک سو ہوکر دیکھنا شروع کردیں۔پہلے دن صرف پانچ منٹ کریں اور پھر اس کو تیس منٹ تک لے جائیں۔پہلے پہل دیکھنا بہت مشکل ہوگا۔آنکھوں سے اور ناک سے پانی نکلے گا۔ پھر آہستہ آہستہ آنکھیں عادی ہو جائیں گی اور پانی نکلنا بند ہوجائے گا۔آہستہ آہستہ توجہ بننا شروع ہوجائے گی۔مختلف لوگوں کو مختلف قسم کے تجربات سامنے آتے ہیں۔آپ کو بھی جو محسوس ہووہ آگاہ کرے۔
ٹیلی پیتھی کی تاریخ
ٹیلی پیتھی کوئی جدید علم نہیں ہے یہ اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ انسان خود۔یہ ایک قدیم ترین علم ہے لیکن ہر دور میں اسے مختلف ناموں سے پکارتےرہےہیں۔ٹیلی پیتھی دو یونانی لفظوں ٹیلی اورپیتھی کا مجموعہ ہے جس کا مطلب ہے دور سے محسوس کرنا ۔جن حضرات نے اس علم کو وسعت دی اور اس کو پھیلانے کا سلسلہ جاری رکھا ہے وہ آج بھی ایک سوسائٹی کی شکل میں موجود ہیں۔
"سوسائٹی فار فزیکل ریسرچ" جس کو ایس پی آر کہا جاتا ہے۔اس سوسائٹی نے بڑی احتیاط سے اس کا مشاہدہ کیا اور کامیاب تجربات کا سلسلہ شروع کیا۔
اس سوسائٹی نے ثابت کیا کہ ٹیلی پیتھی ایک بامقصد علم ہے جس کوحاصل کیا جا سکتا ہے اور اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ٹیلی پیتھی کی عملی مشقیں
شمع بینی۔
ٹیلی پیتھی کی عملی مشقوں میں شمع بینی سب سے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔کھانا کھانے کے دو گھنٹے بعدشمع بینی شروع کریں۔شمع بینیکے لیےایک اچھی موم بتی لےلیں۔رات کو اپنے تمام کاموں سے فارغ ہوکر ایک ایسے کمرے کا انتحاب کریں جہاں شور نا ہو۔سب سے پہلے سانس کی مشق کریں۔اُس کے بعد شمع کے سامنے دو فٹ کے فاصلے پر بیٹھ جائیں اور یک سو ہوکر دیکھنا شروع کردیں۔پہلے دن صرف پانچ منٹ کریں اور پھر اس کو تیس منٹ تک لے جائیں۔پہلے پہل دیکھنا بہت مشکل ہوگا۔آنکھوں سے اور ناک سے پانی نکلے گا۔ پھر آہستہ آہستہ آنکھیں عادی ہو جائیں گی اور پانی نکلنا بند ہوجائے گا۔آہستہ آہستہ توجہ بننا شروع ہوجائے گی۔مختلف لوگوں کو مختلف قسم کے تجربات سامنے آتے ہیں۔آپ کو بھی جو محسوس ہووہ آگاہ کرے۔
السلام علیکم،
ReplyDeleteگزارش ہے کہ اگر کسی رھنمائ کی ضرورت ہو تہ کیسے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ کوئ ای میل آیڈریس اگر ہو تو بتا دیں۔ شکریہ
این
ReplyDeleteAn other Devta mutasar 🙄🙄